iqbal day speech in urdu written


ا
’’اقبال کا تصور شاہین


اقبال کی شاعری میں جن تصورات نے علامتوں کا لباس اختیار کیا ہے ان میں شاہین کا تصور ایک امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔ بیسویں صدی کا آغاز تھا
کہ اقبال کی پہلی نظم ہال منظر عام پر آئی۔ اس کے بعد پانچ چھ برس تک متواتر ان کی ایسی نظمیں ملک کے سامنے آتی رہیں، جو ان کی حب وطن، زوق حسن اور ہم آہنگی فطرت کی آئینہ دار تھیں۔ اس اثنا میں انہیں یورپ کا سفر پیش آیا اور وہ ایک عرصے تک کیمرج اور اس کے بعد ہائڈل برگ ( جرمنی میں مقیم رہے۔ جرمنی میں قیام کے دوران میں انہوں نے جن فکری اثرات کو قبول کیا ، ان میں نطشے کا فلسف قوت و زندگی خاص طور پر قابل ذکر


ہے۔ نظریاتی حلقوں سے باہر کی فضا بھی ایک ہنگا مل سے معمورتی اور جرمنی قیصر ولیم کی قیادت میں تسخیر عالم کی تیاریوں میں مصروف تھا۔ جرمن قوم کی فعالیت اور بلند نظری اور جرمن فردکی خودشناسی اور خود اعتمادی نے اقبال کے نظام فکر پر ایک گہرا اثر ڈالا ہے اور اس اثر کی ایک یادگار ان کی فضائے جن میں اس پرند کی آواز ہے جسے شاہین کہتے ہیں اور جو قیصر کے جنگی خود اور اس کی کوہ شکن سپاہ کے پھریروں اور اس کے جہازوں کے مستولوں پر دنیا کے گوشے گوشے میں متواتر پانچ برس تک مائل رہا۔ اقبال کے شعر میں شہباز کی پی نمود میں اس کے دور اول کی ایک نظم مرغ ہوا میں ملتی ہے جو پہلی جنگ عظیم کے قریب لکھی گئی۔


Iqbal day speeh in urdu

iqbal day speech in urdu
iqbal day speech in urdu



اس قتحریر: فاران خان صبح آنکھ کھلی اور تاریخ دیکھی تو یاد آیا کہ آج تو علامہ اقبال کا یوم پیدائش

ہے۔ لیکن پھر اس خیال نے مجھے نمکین کر دیا کہ ابھی تک یہ قوم لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری پر ہی پھنسی ہوئی ہے۔ اس سے آگے تو کسی

نے اقبال کو سمجھنے کی زحمت ہی نہیں کی تو خوشی کس بات کی منائیں ، اس بات کی علامہ اقبال نے جو پیغام ہمارے لئے چھوڑا اس پر آج تک ہم نے عمل تو دور کی بات سمجھنے کی کو شش ہی نہیں کی کیا ایک برائے نام قومی شاعر کی پیدائش کی جن کو سال میں دو دن ہی یاد کیا جاتا اور وہ بھی چند نغموں اور بچوں کی نظموں کی صورت میں۔ کیا علامہ اقبال حقیقی طور پر ہمارے قومی شاعر ہیں؟ جب ہم سے کوئی پوچھے کہ آپ کا قومی شاعر کون ہے تو ہم فخر

سے علامہ اقبال کا نام بتا دیں گے لیکن اگر کسی نے یہ پوچھ لیا کہ علامہ اقبال کا خودی کا فلسفہ بیان کریں تو ہم شرمندگی سے ان سے نظر میں ملانے کے قابل نہ رہیں۔ یہوم کے ایک لمحہ فکریہ سے کم نہیں۔
...Read more


Click to comment