Ads 720 x 90

coronavirus in pakistan update in urdu

coronavirus in pakistan update
coronavirus in pakistan update

Coronavirus in pakistan update by Doctor Zafar Mirza

اس جو ہیں وہ آرہے ہیں اب بھی اصلی 99 فیصد کیسز ہیں وہ جان نہیں ہے جو لیڈر آکر میرے پاس ہے وہ 11945 لوگوں کو ابھی تک یہ کنفرم ہوچکے کرونا وائرس.اور 249 لوگوں کی.وفات ہوچکی ہے اس کی وجہ سے.جب میں آخری دفعہ آپ کے ساتھ پریس کانفرنس کرنے کے لیے آیا تھا.دل دو دن ہوئے ہیں.تو اس دن تک یہ اٹھارہ ملکوں میں پھیل چکا تھا اس کے علاوہ.آج جب میں آپ سے بات کرنے آیا ہوں تو یہ 27 ملکوں میں پھیل چکے ہیں

.اور کچھ ملکوں میں.یہ یونٹ فیمن ٹرانسفر بھی ہوگئی ہے.یعنی کہ یہ ضروری نہیں ہے.کے.اس صرف انہی لوگوں میں دوسرے ممالک میں پھیل رہا ہے کہ چین سے ہو کے آیا ہے بلکہ اب ان کی وجہ سے دوسرے لوگوں میں مٹھائی لیکر.آپ جیسا کہ میں نے اپنی پچھلی.پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ.ہم یہ سمجھتے ہیں.ایک ذمہ دار حکومت کے طور پر ایک ذمہ دار ملک ہوتے ہوئے کہ عالمی ادارہ صحت نے.کیونکہ اس کو ایمرجنسی آف انٹرنیشنل کنسرن قرار دے دی ہے اس حوالے سے بہت احتیاط کی ضرورت ہے اور اس انسان اپنے لئے اپنے لوگوں کے لیے.

اور دنیا کے لوگوں کے لیے انتہائی ذمہ داری کے ساتھ ایک وہ کا مٹانا چاہتا ہے کہ جس کی وجہ سے آپ زیادہ سے زیادہ لوگ صحیح رہ سکیں.تو.دوسری وجہ اس کی یہ تھی اس فیصلے کی کہ ہم نے باوجود اس کے ظاہر ہے کہ تشویش ہے پاکستان میں میڈیا میں کہ ہم اپنے لوگوں کو اپنے بچوں کو وہ انسٹی سے کیوں واپس نہیں بلا رہے.تو میں نے پچھلی دفعہ بھی کہا تھا.کہ ایک تو.Ansariumar1 مدنظر ہیں اور دوسرے ہمارا اس پر مکمل اعتماد ہے.کے چین.کی حکومت جو اس سلسلے میں اقدامات کر رہی ہے

وہ گڈ پبلک ہیلتھ ہے وہ پبلک ہیلتھ کے جو کے تحت اعتماد کر رہے ہیں اس سے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کے اپنے لوگ ان کے ملک میں دوسرے ملکوں کے لوگ.اور باقی دنیا میں بسنے والے لوگ.اس وبا سے بچ سکیں.ہم اس پر مکمل اعتماد ہے میں آج پھر اس سے تم آباد کا اعادہ کرنا چاہتا ہوں اور یہ بات بھی کہنا چاہتا ہوں کہ حکومت پاکستان چین کے ساتھ اس معاملے میں.بالکل ان کے ساتھ کھڑی ہے.

اور ہم پوری طرح سے ان کی حمایت کرتے ہیں.اور تائید کرتے ہیں ان کے تمام اقدامات کی کہ جو وہ کر رہے ہو اب یقین.سوال یہ پیدا ہوتا ہے اور آپ کا پہلا سوال یہی ہوگا اگر میں اس کا خود جواب پہلے سے نہ دے دو کہ جی باقی ملک تو نکالنے اپنے لوگوں کو ماں سے پاکستان کیوں نہیں نکال رہا.اور پھر آپ کے ذہن میں وہ ویڈیوز چل رہی ہوگی جو اکثر آجکل وائرل ہوئی ہیں اور لوگ دیکھنے ان کو ہمارے بچوں کی مرے لوگوں کی جو مختلف طرح کے مسائل اٹھارہے ہیں میں ہونے کے تناظر میں.تو.میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں جی کے ابھی تک.آپ.کوئی سات آٹھ ملک ہیں جنہوں نے یا ویکیشنز کرنی ہیں یا انھوں نے ریکویسٹ کی ہے چائنا کو وہ اپنے لوگوں کو ویٹ کر چاہتے ہیں

 آپ.اور چائنا نے.بہت خوشی سے نہیں کیونکہ ان کا خیال ہے اور ہم اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ یہ ٹھیک نہیں ہیں یہ پبلک ہیلتھ کے حوالے سے یہ ٹھیک کا کلام نہیں ہے لیکن 12 انہوں نے ان کی اجازت دی ہے.لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے.کہ وہ خان کے شہر میں اس وقت 120 ملکوں کے لوگ رہے ہیں.اگر سات آٹھ ملکوں نے یہ فیصلہ کیا ہے اس کی جو بھی وجوہات ہیں اس بحث میں جائے بغیر یہ ان کو بہتر معلوم ہوگا کہ انہیں فیصلہ کیا ہے.لیکن 120 ممالک ہیں کہ جن کے شہری اس وقت اس شہری صوبے میں بستے ہیں اور وہ بالکل سب لوگ.اس کی تائید کرتے ہیں کہ چائنا جس طریقے سے اس کو ہینڈل کر رہا ہے اور یہ ان کی انڈائریکٹ سپورٹ کے لئے ہے پاکستان ابھی بھی اس فیصلے پر قائم ہے کہ ہم اس بات کو یقینی بناتے ہوئے اور اس بات کو یقینی اس بات کی یقین کر لینے کے بعد کہ ہمارے لوگ ہمارے سٹوڈنٹس کی دیکھ بھال بہتر ہورہی ہے

ان کی صحت کا خیال رکھا جا رہا ہے اور جہاں کہیں اگر کوئی پرابلم ہمارے نوٹس میں آتے بھی ہیں تو ہم ان کا فوری طور پر ایڈریس کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں اس لئے کہ.ہمارا چین کی حکومت ان کے فور آفس ان کی ایمبیسی ہماری امبیسی چین کے اندر اندر یہ سب مستقل لمحہ رابطے میں رہتے ہیں میرے ساتھ مستی پوچھ بیٹھے ہیں یہ ڈائریکٹر آنا ہے فارن آفس میں بعد میں اگر آپ ان سے بھی کوئی سوال کرنا چاہیں تو یہ بھی اس کا جواب دیں گے آپ کو کس قدر دن رات پوری حکومت پاکستان 1.بالکل ملکے اے ازمن کاؤنٹ ہم ان تمام مسائل کو دیکھ رہے ہیں

 اور اس کے بارے میں ناصر اقدامات کر رہے ہیں اس سے کل میری شاہ محمود قریشی صاحب جو ہیں ہمارے وزیر خارجہ ان کے ساتھ بڑی لمبی نشست ہوئی ہم نے ان تمام پہلوؤں سے اس ساری سٹیشن کا جائزہ لیا.اور.فائنلی ہم اسی کنفیوژن پر پہنچے اسی نتیجے پر پہنچے کہ جو کیشن میں نے آپ کے سامنے بیان کیا ہے اسے دہرانے کی ضرورت نہیں ہے اور اس میٹنگ کے میری ان کے ساتھ میٹنگ کے فورا بعد ہمارے وزیر خارجہ کی آج چین کے وزیر خارجہ.انکا نام ہے ونگ گی ان کے ساتھ بڑی لمبی بڑی جامعہ بات چیت ہوئی.اور دونوں طرف سے اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی کے دونوں ممالک.

پاکستانیوں کی فلاح و بہبود ان کی اولین ترجیح اور سارے پاکستانی واپس ایف ہیں اور انہوں نے ہمارے وزیر خارجہ کو یقین دلایا کہ خاص طور پر پاکستانی کیونکہ پاکستان چین کا ایک بہت بڑا دوست ہے اس کا ہمسایہ ہے اور ٹائم ٹیسٹ فرینڈشپ ہماری.ہاں تو ہم خاص طور پر پاکستانیوں اور خاص طور پر پاکستانی طالب علموں کے لیے سب کچھ کرنے کے لئے تیار ہے اور کر رہے ہیں کہ جو کیا جانا چاہئے.آپ.اب میں چند ایک اور چیزیں آپ کے سامنے اپڈیٹس کے طور پر رکھنا چاہتا ہوں.پہلی پریس کانفرنس میں نے آپ کو بتایا تھا اور آپ کے میں سے کچھ نے مجھے سوال بھی کیا تھا

 کہ کیا حاجی پاکستان کی صلاحیت ہے کہ اگر خدا نہ ہنستا ہمارے ہاں.کوئی کرونا وائرس کا مشتبہ مریض ہو تو ہم کیا اس کو کنفرم کر سکتے ہمارے پاس ہماری لیبارٹری اندر اس کی صلاحیت ہے تو اس سلسلے میں آپ کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ آج شام تک ہمیں یہ ٹسٹ وصول ہو جائیں گے.اور کل سے یہاں جسے اگر ضرورت پڑے خدا نہ ہنستا تو ہم یہ ٹیسٹس کرکے کرونا وائرس کو کامیاب ایکس لوڈ کرسکیں گے.

اگلی بات جو میں آپ سے کرنا چاہتا ہوں یہ.کہ وزارت صحت نے.تمام تقریبا دوسری لونڈ وزارتوں کے ساتھ مل کے.جس میں.فارن آفس بھی ہے جس میں منسٹری آف انفارمیشن بھی ہے.جس میں ایویایشن منسٹری آف انٹیرئیر اور دیگر ادارے ان سب کے ساتھ مل کے ایک بڑی جامعہ اور بڑی محنت کے بعد.بڑی جام پلاننگ کرلی ہے ہم نے کہ جب ہماری فلائٹس چائنہ سے آنی شروع ہو جائیں گی تو ہم نے کس طریقے سے پیسنجرز کو ریسیو کرنا کس طریقے سے ان کی سکریننگ کرنی ہے اور مختلف گروپس میں ان کو کیسے بانٹنے اور ہر گروپ کے لئے ہمارے کیا حکمت عملی ہوگی.میں صرف آپ کو دکھانے کے لئے اب تو نہیں سکیں گے یہ کافی لمبی میں نے ہم نہ ہم لوگوں نے گزشتہ روز اور نصف تک بیٹھ کر کر تیس چالیس لوگوں نے اس کی پلاننگ کی ہے

اور ہم میں ہمیں اب یقین ہے کہ ان شاء اللہ تعالی.اگر ہم اس پلین کو امپلیمنٹ کرنے میں کامیاب رہے اور کوئی وجہ نہیں کہ کیوں نہ رہے تو انشاءاللہ.ہم پاکستان کے لوگوں کو اس وبا سے محفوظ رکھ سکے گے انشاء.آپ.اس کے علاوہ میں بڑی تعریف کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے جو دفترخارجہ ہے.انہوں نے بہت محنت کے ساتھ ہماری جو سفیرامام پیر بیجنگ میں انہوں نے بڑی محنت کے ساتھ اس چیز کا بندوبست کیا ہے کہ جو پاکستانی چھیننے ہیں وہ طالب علم ہے یا سفر کر رہے تھے اور اب وہاں پہ ہیں تو انکی اگر ان کے چینی ریگولیشن کے مطابق اگر ان کو اب 14 دن انھوں نے معافی گزارنے ہیں بیفور کمیونٹی پاکستان.تو ان کی جو ٹکٹس کر ایکسپائر ہو گئی ہیں اگر ان کے ویزا جوہی زغوان کیٹس گزر گئی ہیں تو اس کے لیے ہم نے انہیں گورنمنٹ کے ساتھ یہ رہنمائی کر لی ہے

کہ کسی کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ ہو اور کسی سفارتخانوں میں تو اس کا انہوں نے مکمل بندوبست کرلیا ہے اگر آپ چاہیں گے تو بعد میں نے صاحب اس کی تفصیل بھی آپ کو بتا دیں گے.اگلی بات میں آپ سے یہ کرنا چاہتا ہوں جی کے.آج سے ان شاء اللہ تعالی.آپ الیکٹرونک میڈیا پے ہمیں اویرنس ریزنگ کی کمپین شروع کریں.کہ جس کے جس میں اس مرض کے بارے میں اس وائرس کے بارے میں اس کے ویژن کے بارے میں.اس سے بچنے کے طریقوں کے بارے میں.ایک آگہی.کی مہم شروع کر رہے ہیں.اور یہ ہم نے کل اچھے میں پیمرا.سبی میری بات ہوئی ہے.اور وہ تمام میڈیا چینلز کے ساتھ اب انہوں نے رابطہ کیا ہے پاکستان ٹیلی ویژن تو کرے گی تو پبلک سروس میسج جنگ کے ذریعے ہم لوگوں کو آگاہ کریں گے اور متواتر کریں گے اور کرتے رہیں گے کہ تاکہ ان کو جو بنیادی حقائق ہیں جو بنیادی نکات ہیں اس مرض اور اس بیماری کے بارے میں اس کے بارے میں ان کے بارے میں ان کو پتہ لگے اور جیسے جیسے ہم آگے چلیں انشاء اللہ اس میں اگر کسی تبدیلی کی ضرورت ہے یا کوئی نیا گر مرے پاس ریسرچ آجاتی ہے تو اس حوالے سے ہم ان کو اپڈیٹ بھی کرتے رہیں گے.خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ابھی تک اورمیں اس کی پھر دوبارہ سے تصدیق کر سکتا ہوں کہ ابھی تک پاکستان میں ایک بھی کرونا وائرس کی دہلیز کا مرض کنفرم نہیں ہوا ہم نے پانچ چھ لوگوں کو ان ڈراپ لوکیشن رکھا ان کی سیمپلنگ کی اور وہ سب کے سب اللہ کا شکر ہے کہ نہ صرف یہ کہ کرونا وائرس پوسٹ نہیں ہے بلکہ وہ رقم کر رہے ہیں

 اس کے ساتھ ساتھ میں آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ ہمارے وہ چار طالب علم جو پوزیٹو پائے تھے چین میں.ان کے بارے میں بھیجو ہمارے پاس لیٹیسٹ انفارمیشن ہے وہ یہ ہے کیونکہ ان کے ان کی تشخیص بڑی علی سٹیج پہ ہو گئی تھی تو وہ بھی اللہ کا شکر ہے کہ وہ ریکور کر رہے ہیں اور صحت مند ہے.ام اب میں آپ کو ایک بہت اہم بات بتانے لگا ہوں آخر میں اور وہی ہے.از پہلی پریس کانفرنس میں میں نے آپ کو یہ بتایا تھا کہ چائنا کی گورنمنٹ نے اپنے شہریوں کے لیے یہ ریگولیشن بنائی ہے کہ کوئی بھی چینی.چین سے باہر کے ممالک میں سفر نہیں کرنے کا اہل ہوگا اگر وہ 14 دن تک.ڈیزیز فری نہیں ہوگا.یعنی کہ جو انکیوبیشن پیراڈائز کا وہ اس کا سرٹیفیکیٹ اس کے پاس ہونا چاہیے

 کہ وہ چودہ دن تک اس کو اس سے متعلقہ کسی قسم کی کوئی علامت نہیں ملی ہوئی ملی.میں نے آج چین کے سفیر سے بڑی تفصیلی ملاقات کی ہے اور ہم نے اس چیز پر ایگری کرلیا ہے.اور اس کے اوپر ہم مزید اس کو جو بھی ہم نے فارم دینی ہے اس کو یقینی بنانے کے لیے لیکن ہمارا ایگریمنٹ ہو گیا ان کے ساتھ.کہ جس طرح انھوں نے یہ چینیوں کے لیے یہ فیصلہ کی ہے اسی طرح ہے اس وقت تک نہیں چھوڑ سکیں گے کہ جب تک وہ 14 دن تک تیز ترین.یہ بہت بڑی بات ہے اس کو اگر آپ سمجھے

 اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کو ہم نے اس ایک میر کے سے بڑی حد تک.سیف کرلیا.کیونکہ اس مرض کی جو ہماری اس وقت کس ڈیفینیشن ہے اس میں چین میں سفر یا قیام بڑے اہم نکات ہے.اور اگر ہم اس کے انکیوبیشن پیریڈ کو کنٹرول کرلیتے ہیں پاکستان سے باہر.تو یہ ایک قدم جو ہے یہ پاکستان کے تمام لوگوں کو محفوظ کر لیتا میں کافی یقین کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہوں کہ بڑی حد تک پاکستان کو وہ اس زیست سے اس معلوم اس معلومات کی بنیاد پر کہ جو ہمیں ابھی تک میسر ہے کہ جس جو ہمیں یہ بتاتی ہے اس کا انکیوبیشن بھیر 14 دینا ہے تو اس کی بنیاد پہ یہ غم کیسے کریں گے اس کی تفصیلات ہم ان کے ساتھ تحفیط ہوگئی ہیں مزید ہو جائیگی

لیکن یہ بات بنیادی اصول ہمیں ان کے ساتھ ایک کرلی ہے کہ کوئی بھی شخص پاکستانی جو چین میں ہے.وہ پاکستان 14 دن کی اپوزیشن کے بغیر نہیں آئے گا.اور اس کے ساتھ ساتھ.چائنیز کے لئے تو یہ پہلے تھائی.لیکن.وہ خان سے.ابھی تک ادھر کورنٹائن چل رہا ہے اور ادھر سے تو لوگ باہر آئے نہیں سکتے لیکن اس کے باہر بھیجو چینی ہے وہ اگر ٹریول کریں تو 14 دن ان کو فری ہونا چاہیے یہ یہ وہ میرج ہیں یہ وہ اقدام ہیں کہ جن کے اوپر ہمیں فوکس ہم کیے ہوئے ہیں پاکستان کے لوگوں کو محفوظ بنانے کے لیے.مجھے معلوم ہے کہ زہرہ کے یہ تنقید بھی ہوتی ہے جی کہ ہم باقی لوگ لے کے جا رہے ہیں بچوں کو آپ کیوں نہیں لے کر جا رہے ہیں

 سب سے زیادہ فکر اپنے بچوں کی.لیکن ہمیں بروڈر تناظر میں اپنی ذمہ داریاں ذمہ داریوں کا ادراک کرتے ہوئے صحیح قدم اٹھانے ہم نے صرف کسی کی نقل میں قدم نہیں اٹھانا.کیوں نے اسے کر لیا تو ہم بھی ایسی کر لیں کیونکہ سے ایک دن بڑی واضح ہو جائے گی.ہمارے نزدیک یہ زیادہ امپورٹنٹ ہے کہ ہمیں کیا ایسے اقدام کرنے چاہئیں کہ جس سے مکس مال نمبر ان پاکستان ریٹ بتاؤ فرمائیں زنگان سیفٹی اینڈ ویلفیئر اینڈ ویلنگ.عفو پیپل لیونگ ان چائنا رائیونڈ اسپیشلی 2009 حسن سٹی.تو یہ چند گذارشات تھیں جو اپڈیٹ سے جو میں آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا تھا آپ سب کو اور پاکستان کے لوگوں کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان.اس چیز کی سب سے زیادہ فکر ہے کوئی اس کا چیمپئن بننے کہ اس سے زیادہ کسی کو فکر ہے اور لمحہ علامہ ان کو ہم اس کے بارے میں انفارمیشن اور ان سے ہدایات لیتے اور ان کے نتیجے میں ہم یہ اقدامات کر رہے ہیں

 آپ کی توجہ کا بہت بہت شکریہ آپ نے کچھ کھا کے ساتھ ساتھ ہمارے جذبات پہ زنجیریں ہیں کہ وہاں سے نکالا جائے تو بعد میں کچھ شرائط کے بارے میں مجھے تمہارے کے اظہار کے لئے اسی طرح سے پولیو پر بہت زیادہ توجہ دی جارہی ہے یہ شکایات موصول ہوئیں.میں آپ کو بتادوں کہ اس کی مکمل پلاننگ ہے مرے پاسس معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نیوز کانفرنس کریں انہوں نے بتایا کہ رواں برس اب تک 249 موت ہوچکی ہیں یہ بار 27 ممالک میں پھیل چکا ہے جن میں پاکستانیوں کے بیجوں کی تاثیر کے لئے دفتر خارجہ انتظامات کے لئے ہے چینی حکومت کرونا وائرس کے تدارک کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی اس کے اوپر پورا عمل کرتے ہوئے

 ہم انشاء اللہ تعالی میگین کہتا ہوں کہ.اگر اللہ کی مدد شامل حال رہی تو جو انسان کے بس میں وہ ہم نے تمام پلاننگ کر لئے اور انشاء اللہ تعالی ہمیں یقین ہے کہ الفضل کرے کرکے بتائیے آئسولیشن رومز ہاسپٹلز میں ہوتے ہیں جی اور انکی ہیں بشرطیکہ متحمل کئے گئے اور ہم نے اس سلسلے میں بھی جو پلیننگ ہم کر سکتے ہیں اور جو کی جانی چاہیے وہ ہم نے.کیا میں آپ کے سوال کے حوالے سے ایک اور بھی جواب آپ کو دے دوں کہ یہ جو ساری پلاننگ ہے یہاں صوبوں کے ساتھ بھی شئیر ہو رہی ہے اور چونکہ ہمارے سپورٹس تفریحی اسلام آباد لاہور کراچی خاص طور پے

 لیکن دوسرے بھی ہیںکی آج حاکم ٹریفک ہے انکی ہمیں پوری فورس میں بھی ہم نے کی ہے وہاں پہ جرم سکینر بھی مزید منگوائے ہیں اور لگا رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومتیں بھی بہت ایکٹو پولیس کے کام کر رہی ہیں میں اس بات کا کپڑا اس بات کو بڑھاپے شیٹ کرنا چاہتا ہوں کل میری سندھ کے چیف منسٹر سب سے ملاقات ہوئی ہے پنجاب کی چیف جسٹس سے ملاقات ہوئی ہے ایوری بڑی زون ہائی الرٹ ایوری اسپلیننگ ویول اور ہم سب ایک بیچتے ہیں اور ایک پلین انشاءاللہ انٹرنیٹ کریں گے.جواب ہے آج بھی کہا تھا اس کے ٹیسٹ اس میں کیا بات ہے جی کہ وہ کسی کا طریقہ سکتے ہیں کہ کوئی سوالوں کا جواب دے تو بڑا اچھا آپ نے سوال کیئے ہیں پہلی بات یہ ہے جی کہ.کہاں کہاں ٹیسٹنگ کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ میں اسلام آباد اور ہم نے انڈرسٹینڈنگ ڈویلپ کر لی ہے کہ سندھ اور پنجاب میں دو سینٹر سب نعرے ایک شوکت خانم کے ساتھ لاہور میں اور آغا خان یونیورسٹی کے ساتھ کراچی میں

تو یہ ان علاقوں کو غور کریں گے مزید اہم زید بھی سینٹرز اس کے لئے نگین فوری طور پر تین سینٹرز بولو گے تو آپ کے لئے ایک ڈوئل کے اگر وہ نہیں تمہارے پاس 14 بڑے ریلیٹیڈ وائرسیز کیپسول ڈی موجود تھی.اب اگر میں کرونا وائرس کی ایک بات بتاؤں تو چار طرح کی کرونا وائرس اور لیڈی ایگزسٹ کرتے ہیں اور ان چاروں کے ڈائگنوسٹک ہمارے پاس ایڈیبل ہے یہ مارنیاں کنواری سہی اس وقت حکم جو کر رہے تھے وہ یہ تھا دوستی کرے وہ یہ تھا کہ ایک تو ہم ان چانسس باقیوں کو ایکس لوڈ کر رہے تھے جن میں سے کوئی تو نہیں ہے دوسرے کچھ سیمپلز نے بھی بھیجے کرونا وائرس کی تشخیص کے لئے تاکہ اگر ہمیں دلی ہوں ریسیو کرنے میں تو ہم ہمارے پاس دوسرا ایک وسیلہ ہو اور تیسرے کچھ سیمپل سامنے سے بکر لیے کہ جب مرضی ہو جائے گا تو ہم ان کو چیک کر لیں گے اور آخر یہ بڑی اہم بات.کہ میں نے جس طرع عرض کیا اپنی علیہ جب میں بول رہا تھا تو.
    Usama bin Zulfiqar
    I am Usama bin zulfiqar and i am one of the most oldest blogger in pakistan. i run more than 10 blogs but now i only run worlduz.com. I am an SEO expert and i love to talk about IT staff

    Related Posts

    Post a Comment

    Subscribe Our Newsletter